کسان اتحاد کے دھرنے میں پولیس کے ہاتھوں زخمی ہونے والے کسان رہنما انتقال کر گئے

لاہور(این این آئی)ٹھوکر نیاز بیگ پر پولیس کی جانب سے واٹر کینن اور شیلنگ سے بیہوش ہونے والا کسان رہنما جناح ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ فنانس سیکرٹری ملک اشفاق لنگڑیال کسانوں کے احتجاج میں شامل تھے اور پولیس کی جانب سے کیمیکل ملے پانی کے استعمال اور شیلنگ سے بیہوش ہو گیا تھا۔ ملک اشفاق لنگڑیال کو بیہوشی کی حالت میں جناح ہسپتال داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ گزشتہ روز

دم توڑ گیا۔ اشفاق لنگڑیال کی میت کو پوسٹمارٹم کے بعد آبائی شہر وہاڑی روانہ کر دیاگیا ہے۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ق پنجاب کے صوبائی جنرل سیکرٹری سینیٹر کامل علی آغا کا کہنا ہے کہ پاکستان کیلئے انتھک کسان کا دم غنیمت ہے،گندم کی قیمت دو ہزار روپیہ فی من مقرر کی جائے، اس کے نتیجہ میں زیادہ سے زیادہ گندم کاشت ہوگی اور پاکستان کو مستقبل میں گندم کی قلت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، یہ خود چلچلاتی دھوپ میں جھلس کر ہم وطنوں کی غذائی ضروریات پوری کرتے ہیں ان کی محرومیوں کا مداوا ہر دور میہماری قیادت کی ترجیحات میں سرفہرست رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے کاشت کار اور کسان کو پاکستان کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کہنا بیجا نہ ہوگا دھرنے میں شریک کسانوں پر تشدد نے رنجیدہ کردیا کسانوں کا مقام زندان نہیں کھیت کھیلانوں میں ہے ان کر گرفتاریاں ناقابل فہم ہیں کسانوں نے بامر مجبوری دھرنا دیا ان کا چارٹر آف ڈیمانڈ تسلیم کیا ہے، وہ مسلم لیگ ہاؤس میں مختلف وفود سے بات چیت کر رہے تھے۔سینٹر کامل علی آغا نے مزید کہا کہ کسانوں کو خاطر وخواہ ریلیف کی فراہمی کیلئے “ڈنڈے”نہیں “دور رس ایجنڈے”کی کی ضرورت ہے ہمارا ملک اپنے خوددار کسان کو پریشان اور مایوس کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ کی قیادت نے ہر دور میں کسانوں کی زندگی میں آسانی اور آسودگی کے ساتھ ساتھ ملک میں موثر و مفید

زرعی اصلاحات کیلئے قائدانہ اور کلیدی کردار ادا کیا پاکستان کا ہر کسان اپنے ہر دلعزیز سابقہ وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی کو اپنا مسیحا اور نجات دہندہ سمجھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کرداروں نہیں اداروں کے بل پر تعمیر و ترقی کی منازل طے کرتا ہے بلکہ اس کے فعال قومی اداروں کا مرہون منت ہوتا ہے انہوں نے کہا

کہ پاسکتان کے باشعور عوام نے اپنے قومی اداروں کے خلاف ہر قسم کا بیانیہ مستردکردیا ہے اداروں کی مضبوطی کے بغیر کوئی ریاست اندرونی و بیرونی خطرات اور چیلنجز کا مقابلہ نہیں کرسکتی انہوں نے کہا کہ اداروں پر منفی تنقید کی آڑ میں توہین کرنے والے کرداروں کی اپنی حیثیت انتہائی متنازعہ ہے لہذا وہ پاکستانیوں کو گمراہ نہیں کرسکتے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.