وزیراعظم کے ایک اور معاون خصوصی نے استعفیٰ دے دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک + آن لائن) وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے کوآرڈی نیشن آن مارکیٹنگ ڈیویلپمنٹ منرل ریسورسز شہزاد قاسم مستعفی ہوگئے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کے اہم رکن کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کی جانب سے استعفیٰ منظور کرنے کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ شہزاد قاسم کو کو معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن مقرر

کیا گیا تھا، اس کے علاوہ انہیں معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن کا اضافی چارج بھی سونپا گیا تھا۔اس سے قبل انہیں پٹرولیم بحران کمیٹی کا چیئرمین بھی تعینات کیا گیا تھا۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے مرحلہ وار وفاقی کابینہ اور بیورو کریسی میں اعلی سطح پر تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ آئندہ ہفتے اس حوالے سے آغاز ہو جائیگا جبکہ بعض اہم اداروں میں بھی تبدیلیوں کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے ہوم ورک مکمل کرلیا ہے اور ان تبدیلیوں کی بڑی وجہ حکومت کی کارکردگی اور گورنرز کے معاملات کو بہتر بنانا ہے۔داخلہ،اطلاعات،تجارت،ریلوے،سائنس و ٹیکنالوجی کی وزراء کی وزارتیں تبدیل ہونے کا قوی امکان ہے جن وزراء کو نیا ٹاسک ملے گے ان سے عمران خان ون آن ون ملاقاتیں کررہے ہیں۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کی وزیر اعظم سے ملاقات ہو چکی ہے۔شیخ رشید کو اطلاعات یا داخلہ کی وزارت ملنے کا امکان ہے جبکہ فواد چودھری بھی داخلہ کی وزارت میں دلچسپی رکھتے ہیں اگر شیخ رشید کو داخلہ کی وزارت دی گئی تو پھر فواد چودھری وزارت اطلاعات کی ذمہ داریاں دوبارہ سونپے جانے کا امکان ہے۔وزیر اعظم نے وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کے وزیر فخر امام کی کارکردگی سے بھی خوش نہیں کیونکہ یہ وزارت آٹا اور گندم بحران پر قابو پانے میں ناکام رہی۔اسی طرح معاشی پالیسیوں کے

اب تک موثر نتائج سامنے نہ آنے پر حفیظ شیخ کی کارکردگی پر مطمئن نہیں ہے لیکن ان کا متبادل کیا ہوگا اس پر سوچ وبچار جاری ہے۔مشیر تجارت رزاق داؤد کو بھی شوگر سیکنڈل کی وجہ سے وزارت سے فارغ کئے جانے کا امکان ہے جبکہ اسد عمر کو وزارت توانائی میں لانے کی تجویز ہے،بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مواصلات،سمندر پار پاکستانیز،بحری امور اور آبی وسائل کی کارکردگی سے وزیر اعظم مطمئن ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *