جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو جان بوجھ کر فیض آباد دھرنا فیصلے پر ٹارگٹ کیاگیا، جسٹس قاضی فائز ریفرنس میں سپریم کورٹ کے دو ججز کا اختلافی نوٹ سامنے آ گیا

اسلام آباد (آن لائن)جسٹس قاضی فائز عیسی کیس سے متعلق فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ اورجسٹس مقبول باقر کی جانب سے اختلافی نوٹ جاری کر دیاگیا ہے۔ بدھ کوجسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے 65 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیس عدلیہ کی آزادی اور احتساب کا تھا،وفاقی حکومت یا اسکے ادارے جج کے کنڈکٹ پر کونسل کو

شکایت نہیں کر سکتے،شکایت کنندہ کی شکایت کو پذیرائی دینے کے تمام اقدامات کالعدم قرار دئیے جاتے ہیں،ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے،سپریم کورٹ کسی جج کیخلاف کسی کو شکایت درج کرانے کی ہدایت نہیں کر سکتی،جج کیخلاف شکایت اعلی عدلیہ کی خود مختاری اور شفافیت پر دیر پا اثرات چھوڑے گی۔اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سوال یہ ہے کہ کیا ہم آئین کے تابع ہیں یا کوئی بھی آئین کو پامال کر سکتا ہے،کیا حکومت آئین کو پس پشت ڈال کر بنیادی حقوق سلب کر سکتی ہے،معاون خصوصی  شہزاد اکبر اور ایسٹ ریکوری یونٹ کی ٹیم کیخلاف فوجداری کارروائی کی جائے،نادرا اور ایف بی آر حکام جنھوں نے غیر قانونی طریقے سے معلومات دیں انکے خلاف بھی قانون کے مطابق کاروائی کی جائے،جسٹس قاضی فائز عیسی کی معلومات لیک کرنے کا معاملہ چیف جسٹس کے سامنے رکھا جائے،صدر مملکت نے سمری بھیجنے سے پہلے دماغ استعمال نہیں کیا، معزز جج اور انکی اہلیہ کو دیگر شہریوں کیطرح قانونی تحفظ حاصل ہے،ایف بی آر سمیت کوئی بھی ادارہ سپریم جوڈیشل کونسل میں براہ راست شکایت درج نہیں کرا سکتا، وفاقی حکومت کابینہ کی منظوری کے بغیر ریفرنس نہیں بھیج سکتی،کسی بھی جج کے حوالے سے معلومات صدر کے پاس بھیجی جاسکتی ہیں تاکہ صدر اپنی رائے قائم کر سکے، کیا وزیر اعظم کا معاون خصوصی ریاستی اداروں سے  بالاتر ہو کر

اعلی عدلیہ کے جج کی جاسوسی کر کے معلومات حاصل کر سکتا ہے،کیا ایسٹ ریکوری یونٹ کا چیئرمین  ایسے اختیار رکھتا ہے کہ وہ ایف بی آر,نادرا اور ایف آئی اے کو حکم دے سکے،کیا وزیر قانون آئین اور قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسٹ ریکوری یونٹ کو تحقیقات کا حکم دے سکتا ہے،کیا وزیر قانون غیر قانونی طور پر اکٹھا کیا گیا مواد سمری کی صورت وزیر اعظم کو بھیج سکتا

ہے،کیا وزیر اعظم کی ذمہ داری کا یہ لیول ہے کہ وہ اس قسم کی سمری منظور کرے،کیا وزیر اعظم سوال نہیں کر سکتا تھا کہ جج کیخلاف معلومات کیسے اکٹھی کیں،شکایت کنندہ وحید ڈوگر کو اہلیہ جسٹس قاضی فائز کا سپینش (ہسپانوی)نام معلوم ہونا حیران کن ہے،شکایت کنندہ کا لندن جائیدادوں تک رسائی حاصل کرنا بھی حیران کن ہے،شہزاد اکبر نے نہیں بتایا کہ وحید ڈوگر کو یہ

سب کیسے معلوم ہوا،وفاق کا موقف ہے کہ صحافی کو اس کا سورس بتانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا،وفاقی کا یہ موقف درست نہیں کہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر نے اپنی تحقیقاتی خبر کسی اخبار میں شائع نہیں کی،وحید ڈوگر نے جج کے خلاف ایکشن کیلئے شکایت کا اندراج کرایا،وحید ڈوگر کا اسٹیٹس ایک شکایت کنندہ کا تھا ایک صحافی کا نہیں،شکایت کنندہ کو شکایت کیلئے معلومات فیڈ

کی گئیں،جس کسی نے بھی وحید ڈوگر کو یہ معلومات فیڈ کیں وہ اس کہانی کے اصل کردار ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسی کو جان بوجھ کر فیض آباد دھرنے پر ٹارگٹ کیا گیا،فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کے لیے اختلاف کا سبب بن گیا،جسٹس فائز عیسی کے خلاف انتقام اور ناراضگی نظر ثانی کی درخواستوں میں واضح ہے،نظر ثانی درخواستوں میں جسٹس فائز

عیسی پر الزامات لگائے گئے اور انھیں ہٹانے کی استدعا کی گئی،ایسٹ ریکوری یونٹ میں مبہم درخواست کا اندراج کیا گیا،انتقام اور ناراضگی کی وجہ سے جسٹس عیسی کے خلاف بوگس شکایت کو پذیرائی دی گئی،چیئرمین اے ار یو شہزاد اکبر نے اکیلے جج کے خلاف انکوائری کا فیصلہ کیا،وزیر قانون فروغ نسیم نے اے ار یو کی انکوائری پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا، وزیراعظم پاکستان

شہزاد اکبر کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے لاعلم تھے،وزیراعظم نے وزیر قانون اور شہزاد اکبر سے انکے غیر قانونی اقدامات پر کچھ نہیں پوچھا،صدر مملکت نے بھی کوئی سوال پوچھے بغیر ریفرنس پر دستخط کر دیے،آئین ہر شہری کو حکومت کی مداخلت کے بغیر آزادی فراہم کرتا ہے،ججز کی جوابدہی کا تصور کوڈ آف کنڈکٹ کے بر خلاف ہے،ایسے تصور کا عدالتی

ساکھ سے کوئی تعلق نہیں،اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کو تحقیقات کی ہدایات دینے کی ضرورت نہیں تھی،کونسل کسی بھی جج کے معاملے پر ازخود نوٹس لینے میں آزاد ہے،ایف بی آر یا کونسل کی جانب کاروائی سے گریزاں ہونے کا موقف کسی فریق نے نہیں اپنایا، اداروں کو اختیارات نہ ہونے پر سپریم کورٹ اپنے حکم سے اختیارات نہیں دے سکتی،ایف بی آر کی رپورٹ

کونسل کے سامنے جج کے خلاف ایک نئی شکایت ہوگی،ایف بی آر  کو آرٹیکل 209 کے تحت صدر کو اپروچ کرنے کا اختیار نہیں،وفاقی حکومت یا اسکے ادارے جج کے کنڈکٹ پر کونسل کو شکایت نہیں کر سکتے،شکایت کنندہ کی شکایت کو پزیرائی دینے کے تمام اقدامات کالعدم قرار دئیے جاتے ہیں،ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے۔جبکہ جسٹس مقبول باقر کے, 68 صفحات پر مشتمل

اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسی کو عہدے سے ہٹانے کیلئے غیر قانونی ریفرنس دائر کیا،جسٹس قاضی فائز عیسی کو غیر قانونی طریقے سے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی،جسٹس قاضی فائز عیسی پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہیں، جسٹس قاضی فائز عیسی کا یہ موقف درست ہے کہ انکے خلاف

ریفرنس قانون اور حقائق کیخلاف اور بدنیتی پر مبنی ہے،جسٹس قاضی فائز عیسی کو عہدے سے بے دخل کرنے کیلئے سرکاری مشینری کا استعمال کیا گیا،اختلافی نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی اور انکے اہل خانہ کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کی مخالفت کرتے ہیں،جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس منصور علی شاہ نے بھی ایف بی آر کو معاملہ بھیجنے کی مخالفت

کی،ایف بی آر کو معاملہ بھیجنا درخواست میں شامل ہی نہیں تھا،ریفرنس کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد جج کے اہل خانہ کی جائیدادوں سے متعلق معاملات عوامی مفاد کے زمرے میں نہیں آتے،ایف بی آر قوانین کے مطابق 2004-2013 تک خریدی گئی جائیدادوں کے ذرائع آمدن سے متعلق تحقیقات نہیں ہو

سکتیں، جسٹس قاضی فائز عیسی پر لگائے جانے والے الزامات بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہیں،جسٹس قاضی فائز عیسی کا یہ موقف درست ہے کہ انکے خلاف ریفرنس قانون اور حقائق کیخلاف اور بدنیتی پر مبنی ہے،جسٹس قاضی فائز عیسی کو عہدے سے بے دخل کرنے کیلئے سرکاری مشینری کا استعمال کیا گیا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *