ڈیڈلاک میں بڑا بریک تھرو‎ ملک کی اہم ترین شخصیات کا نواز شریف سے رابطہ‎

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی فیملی سے ملک کی اعلیٰ شخصیات نے رابطے کئے ہیں، اس بات کا دعویٰ ایک نجی ٹی وی چینل نے کیا ہے، رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف کے ساتھ ملک کی اعلیٰ شخصیات نے سلیمان شہباز کے ذریعے رابطہ کیا اور انہیں اہم ترین پیغام بھجوایا۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو ملک کی اہم شخصیات

کی جانب سے معاملات بات چیت سے حل کرنے اور بیانات میں نرمی لانے کا پیغام دیا گیا ہے، اس سلسلے میں ابھی تک کوئی بریک تھرو نہیں ہوا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ فی الحال اتنے زیادہ بے چین نہ ہوں۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے آئی جی سندھ کے مبینہ اغواء اور کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے معاملے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہ آنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہیں رہیں گے اور پی ڈی ایم کے آئندہ اجلاس میں اس معاملے کو اٹھائیں گے۔عمران خان ایک ”سوغات“ ہے اور جو اس سوغات کو لیکر آئے جتنی جلدی ہو سکے اس کی جان چھڑالیں ورنہ مسائل بڑھتے جائیں گے۔یہاں میڈیا سے گفتگو میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ کے معاملے پر ابھی تک رپورٹ نہ آنا تشویش کی بات ہے۔اپنے آئندہ خطاب سے متعلق انہوں نے کہا کہ دیکھئے جب بھی موقع ملا وہ خطاب کریں گے،ایاز صادق کے قومی اسمبلی کے فلور پر دیئے گئے بیان سے متعلق سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ اس پر اپنی پوزیشن واضح کر چکے ہیں اور ان کا وہی موقف ہے جو پہلے تھا جبکہ فواد چودھری نے جو کہا کہ اس پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک سوغات ہے جتنی جلدی ممکن ہو سکے

اسے واپس لے لیں کیونکہ ان کے آنے سے مسائل بڑھیں ہیں اور اس سوغات کو واپس نہ لینے سے مسائل مزید بڑھتے جائیں گے،اور اس شخص نے پورے پاکستان میں تباہی پھیر دی ہے جو کہ سب کو نظر آتی ہے اور یہ ان کو بھی نظر آنی چاہیے جو اسے لیکر آئے ہیں۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ آئی جی

سندھ معاملے پر رپورٹ قوم کے سامنے نہ آنا تشویشناک ہے،اس معاملے کو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے قومی کے سامنے رکھیں گے۔اس موقع پر نواز شریف میڈیا سے شکوہ کیا کہ صحافی ان سے بات تو لیتے ہیں لیکن ان کو چلائیں گے کہاں۔کیونکہ پاکستان میں ان کا خطاب دکھانے پر پابندی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *