فیاض الحسن چوہان کے پاس اب صرف کونسی وزارت رہےگی ؟ نوٹیفکیشن جاری ‎

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو اطلاعات کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر فیاض الحسن چوہان سے وزارت اطلاعات کا محکمہ واپس لے لیا گیا ہے ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وہ اب صر ف محکمہ کالونیز کے صوبائی وزیر کی حیثیت سے کام کریں گے ۔اس کے علاوہ پنجاب کابینہ میں دو اہم وزراء مہر محمد اسلم اور زوار حسین وڑائچ کو

بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے ۔ مہر محمد اسلم اور زوار حسنی کی وزارتیں واپس لے لی گئیں۔ مہر محمد اسلم کے پاس کوآپریٹو کا قلمدان تھا، زوار حسین کے پاس جیت خانہ کی وزارت تھی۔تحریک انصاف کی رہنما فردوس عاشق اعوان کو وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، اب انہیں ایک نئی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی معاون خصوصی برائے اطلاعات تعینات کر دیا گیا۔اپریل کے مہینے میں پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات کا عہدہ واپس لے لیا گیا تھا، جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی طرف سے یہ عہدہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کو دے دیا گیا تھا، جنہوں نے چند روز قبل اس عہدہ سے استعفی دے دیا تھا۔واضح رہے کہ جیسے یہ چہرہ دیکھنے والوں کے لیے نیا نہیں اسی طرح فردوس عاشق اعوان کے لیے یہ ذمہ داری بھی نئی نہیں ہے۔یاد رہے کہ جب فردوس عاشق اعوان کو وفاقی وزیر اطلاعات کے عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے اس وقت الزام عائد کیا تھا کہ بہت سے لوگ وزارت میں دخل اندازی کرتے تھے اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے بلا کر ان سے استعفیٰ مانگا۔سابق معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے توپوں کا رخ وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کی جانب کردیاتھا۔انہوں نے نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع بھی کیا تھا اوردعویٰ کیا کہ ان کے خلاف خبریں چلوائی گئیں۔دوسری طرف حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ فردوس عاشق اعوان کا الزام مضحکہ خیز ہے، وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کے پاس ایسے اختیار ہی نہیں ہوتے، اس لیے ان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ کسی بھی سیاست دان کی تعیناتی کو اپنی مرضی سے مستعفی ہونے کا کہہ سکے یا اسے ڈی نوٹیفائی کرسکے۔حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ بہت سے کیسز میں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری پرتنقید کرنے کا مقصد وزیراعظم کو ہدف بنانا ہوتا ہے جن پر براہ راست تنقید نہیں کی جاتی۔ یاد رہے کہ جب فردوس عاشق اعوان کو وفاقی عہدے سے ہٹایا گیا تو اس وقت معروف اینکر عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ کرپشن کی وجہ سے انہیں عہدے سے ہٹایا گیاہے۔ جس کی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تردید کی تھی۔ غرض اب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو نئی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.