عمران خان اور طیب اردوان کے مابین ٹیلی فونک رابطہ دونوں رہنمائوں کے درمیان کیا گفتگو ہوئی؟تفصیلات آگئیں

اسلام آباد،نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی )وزیراعظم عمران خان کا ترک صدر رجب طیب اردوان کوٹیلی فون ، زلزلے کے باعث ہونے والے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا، ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کروائی، وزیراعظم نے ازمیر میں زلزلے کے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی

اور کہا کہ پاکستانی عوام دکھ کی اس گھڑی میں ترک بھائیوں کے ساتھ برابر کی شریک ہیں،2005 کے زلزلے کے دوران ترکی پاکستان کے ساتھ کھڑا تھا۔اعلامیے کے مطابق دونوں رہنمائوں نے پشاور مدرسہ پر دہشت گرد حملے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ عمران خان نے کہا کہ پشاور میں بزدلانہ دہشت گرد حملہ پاکستان کے دشمنوں نے کیا۔دونوں رہنمائوں نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر بات چیت بھی کی،رہنمائوں نے مغربی دنیا خصوصا ًیورپ میں اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار کیا۔ عمران خان نے کہا کہ مسلم دنیا کے رہنمائوں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتہا پسندی کے خلاف مل کر آگے بڑھنا چاہیے، مسلمان رہنما مغربی دنیا کے اپنے ہم منصبوں کو پیغمبر اکرمۖ کے ساتھ تمام مسلمانوں کی محبت سے آگاہ کریں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یورپی ریاستوں کے ہولوکاسٹ سے انکار کو مجرم قرار دینے کے قوانین موجود ہیں اس لیے ہولوکاسٹ کی طرح مغرب کو پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات کا احترام

کرنا چاہیے، مغرب کو اظہار رائے کی آزادی کے جارحانہ اقدامات کے جواز بخشنے سے باز رہنا چاہیے۔دونوں رہنمائوں نے پاک ترک وزرائے خارجہ کی ملاقات پر بھی اتفاق کیا، دونوں وزرائے خارجہ اسلامو فوبیا سے نمٹنے کی کوششوں سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر

بات کریں گے۔دریں اثنا فرانس میں گستاخانہ خاکوں اور صدر میکرون کے مسلم دشمن رویے کے خلاف نیویارک میں فرانسیسی قونصلیٹ کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ شدید بارش کے باوجود بچوں اور بزرگوں سمیت سیکڑوں افراد نے مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرین نے

زبردست نعرے بازی کی اور فرانس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق نیویارک میں مظاہرہ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ سمیت مختلف مسلم تنظیموں کی اپیل پر کیا گیا۔ جس میں مختلف رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین

اور شرکا نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر مسلمان اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور ان ۖ کی شان میں گستاخی برداشت نہں کی جائے گی۔مقررین کا کہنا تھا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ فرانس نے جو مسلم دشمن رویہ اختیار کیا ہے وہ انتہائی غلط ہے۔ فرانسیسی صدر کے معافی نہ مانگنے تک فرانس کا بائیکاٹ کیا جائے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.