عمران خان اور ایاز صادق بچپن کے دوست، تیسر ی کلاس میں ایک میچ کے دوران ایسا کیا ہوا کہ بعد میں ایاز صادق کو معافی مانگنا پڑ گئی ؟ سینئر تجزیہ کار شاہد مسعود نے ماضی میں پیش آئے واقعہ سے پردہ اٹھا دیا

گلگت ( آن لائن ) وزیر اعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینے کا اعلان کرتے ہو ئے کہا کہ ہمیں آج بھی میر جعفر ، میر صادق اور میر ایاز صادق جیسے لوگوں کا سامنا ہے، خود کو جمہوری کہنے والے آج فوج اورعدلیہ کے خلاف بول رہے ہیں ۔

سکیورٹی اداروں اور جوانوں کی قربانیوں سے پاکستان محفوظ ہے ، پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ 30سال سے ملک کو لو ٹنے والے ایک ہو ئیں گے یہ چاہتے ہیں کہ کرپشن سے لو ٹا ہو ا پیسہ معاف کردیں مگر میں ان کو کبھی بھی این آر او نہیں دوں گا،اب تک فوکس معیشت ٹھیک کرنے پر تھا اب قانون کی بالادستی قائم کرنے اور طاقتور مجرمان کو قانون کے تابع کرنے پر خود نگرانی کر وں گا، بہت جلد قوم دیکھے گی کہ کس کے ماتھے پر پسینہ اور کس کی ٹانگیں کانپ رہی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان گلگت بلتستان کے 73 ویں یوم آزادی کی مرکزی تقریب میں شرکت کے لیے گلگت بلتستان پہنچے جہاں انہوں نے پریڈ کا معائنہ کیا۔اس موقع پر انہوں نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ میں ایک خوشی کے موقع پر گلگت بلتستان آیا ہوں، ، مجھے خوشی ہے کہ میں دوسرے سال یہاں خوشی منانے آیا ہوں اور جب تک میں وزیراعظم رہوں گا میری کوشش رہے گی کہ میں یکم نومبر گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ گزاروں۔انہوں نے کہا کہ میں 15 سال

کی عمر میں پہلی مرتبہ گلگت آیا، جب قراقرم ہائی وے بن رہی تھی، میں اسکول کی ٹریکنگ ٹیم کے ساتھ آیا، مجھے اس وقت جو ٹریکنگ کا شوق ہوا وہ آج تک ہے کیونکہ اس علاقے میں جو ٹریکنگ ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں ہے، تاہم وزیراعظم بننے کا یہ نقصان ہوا ہے کہ میں

ٹریکنگ نہیں کرسکتا۔عمران خان کا کہنا تھا آج گلگت اسکاؤٹس اور ان شہدا کو خراج تحسین پیش کرنا تھا جنہوں نے قربانیاں دے کر اس علاقے کو آزاد کروایا، دوسرا مجھے یہاں کے لوگوں کو مبارک باد دینی تھی کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری صوبائی حیثیت دینی

ہے جو یہاں کے لوگوں کا مطالبہ تھا ہم نے یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے، ساتھ ہی انہوں نے گلگت بلتستان انتخابات قریب ہونے کی وجہ سے علاقے کے لیے ترقیاتی پیکج پر بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہاکہ ہماری

حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ اپنے کمزور طبقے کو اٹھایا جائے، جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں ان کو اوپر اٹھانا اولین ترجیح ہے، ساتھ ہی گلگت بلتستان، قبائلی علاقے اور بلوچستان، پنجاب کے مغربی حصے اور اندرون سندھ پیچھے رہ گیا ہے اور ہماری کوشش ہے کہ ان سب علاقوں کو

اوپر اٹھایا جائے، آنے والے دنوں میں آپ دیکھیں گے ہمارا سارا ترقیاتی پروگرام ان علاقوں کی طرف جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم کو پاکستان کے لیے مضبوط فوج کی اہمیت کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پوری مسلم دنیا میں دیکھیں اور لیبیا سے شروع کریں پھر

صومالیہ، شام، یمن، افغانستان اور عراق کو دیکھیں تو تباہی مچی ہوئی ہے یا تو جنگیں ہوچکی ہیں یا ہورہی ہیں اور عوام مشکل کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی ہمارے ملک کا جو ہمسایہ ہے بھارت وہاں وہ حکومت ہے جو 73 سال کی سب سے زیادہ انتہا پسند،

مسلمانوں سے نفرت کرنے والی ہے جبکہ جو 5 اگست 2019 کو جو انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں کیا وہ کسی بھارتی حکومت نے نہیں کیا۔ اپنے خطاب کے دوران عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ ہمیں کتنی مضبوط پاکستانی فوج اور سیکیورٹی فورسز

کی ضرورت ہے، کوئی ہفتہ ایسا نہیں جب پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے جوان قربانی نہ دیں، ایک پورے پلان سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی جارہی ہے، بھارت نے منصوبہ بندی کی ہوئی تھی کہ ملک میں شیعہ، سنی علما کو قتل کروایا جائے اور انتشار پھیلایا جائے لیکن

میں اپنی انٹیلی جنسی ایجنسیوں کو داد دیتا ہوں جنہوں نے اس منصوبے کو ناکام بنایا۔ انہوںنے مزید کہا کہ جو لوگ اپنے آپ کو جمہوریت پسند کہتے ہیں انہوں نے پاکستانی فوج اور عدلیہ کو کمزور کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے میں نے کہا تھا کہ جس چیز میں پاکستان کا فائدہ ہے اس میں ان

کا نقصان ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے معیشت اور الیکشن پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی، میں نے کہا دھاندلی ہوئی ہے تو الیکشن کھول دو تو یہ بھاگ گئے، قانون کی بالادستی میں پاکستان کافائدہ ہے لیکن ان کا فائدہ پاکستان کے مفاد میں نہیں، آج بھی ہمیں میر جعفر ،

میر صادق اور میر ایاز صادق جیسے لوگوں کا سامناہے، یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کومعاف کردوں لیکن کبھی ڈاکوؤں کو معاف نہیں کریں گے، ان کے حق میں عدالتی فیصلہ آتا ہے تو ٹھیک ہوتا ہے لیکن فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو عدلیہ کو ہدف بناتے ہیں، یہ عدلیہ میں کوشش کررہے ہیں

ایک جج کو اوپر چڑھا دیں میں شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے آرمی چیف کا انتخاب ٹھیک کیا کیونکہ اب جب ڈاکو ان کے خلاف بول رہے ہیں تو مطلب میری سلیکشن ٹھیک تھی۔انہو ںنے کہاکہ اب تک میر ا فوکس معیشت ٹھیک کرنے پر تھا اب قانون کی بالادستی قائم کرنے پر فوکس کروں گا اور طاقتور مجرمان کو قانون کے تابع کر وں گا بہت جلد قوم دیکھے گی کہ کس کے ماتھے پر پسینہ اور کس کی ٹانگیں کانپ رہی ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *