نئی سیاسی جماعت”مسلم لیگ پاکستان” کی رجسٹریشن معروف خاتون سیاسی رہنما نے تہلکہ خیز دعویٰ کردیا

لاہور( این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک انصاف کی رکن پنجاب اسمبلی اورچیئر پرسن قائمہ کمیٹی داخلہ مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ مسلم لیگ پاکستان کے نام سے ملک میں ایک نئی سیاسی جماعت کی رجسٹریشن کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ، مریم نواز سجن جندال سے

رابطہ کرکے ریاست مخالف ایجنڈے کے لیے ہدایات لے رہی ہیں۔ ان خیالات کااظہارانہوںنے انصاف ویلفیئر ونگ کے مرکزی سیکرٹری جنرل جمشید اقبال چیمہ کے ہمراہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ مسرت جمشیدچیمہ نے کہا کہ پاکستانی عوا م کو پی ڈی ایم کے معرض وجود میں آنے کی حقیقت معلوم ہونی چاہیے اورعوام کوا ن کے اصلی مکروہ چہرے دیکھ لینے چاہئیں،مسلم لیگ(ن)کے موجودہ فوج مخالف اورریاست مخالف بیانیے کی بنیاد2019ء میں رکھی گئی جب نواز شریف جیل سے رہاہوکرلندن گئے،مریم نواز اپنے والد نواز شریف کے لندن پہنچتے ہی پاکستان کے امن کوخراب کرنے کے لئے اور فوج کو بدنام کرنے کیلئے متحرک ہو گئیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مریم نواز نے دسمبر2019ء میں الطاف حسین سے رابطے کیلئے نواز شریف کے دوست سجن جندال کے بیٹے نوین جندال سے رابطہ کیا،نوین جندال کی افغانستان میں لوہے کی کانیں ہیں اور وہیں سے اس نے کراچی کو اپنی ہٹ لسٹ پر رکھ

لیاتھا،نوین جندال سے مریم نواز نے پہلا رابطہ 18دسمبر2019ء کوکیا اورالطاف حسین سے رابطہ کرکے دوبارہ متحرک ہونے کو کہا ،نوین جندال 20دسمبر 2019ء کو لندن گیا ، حسین نواز سب سے پہلے اسے ملااوراسے اپنی رہائشگاہ پر لے گیا جہاں نوین جندال تین روز تک حسین نواز

کے گھر پر قیام پذیر رہا اور اس دوران مریم نواز کے ساتھ بھی مسلسل رابطے رہے۔انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کو دوبارہ فعال ہونے کا کہاگیا اورنوین جندال نے مریم نواز کی الطاف حسین سے ٹیلیفون پر بات بھی کرائی،مریم نواز نے الطاف حسین سے اس بات کا وعدہ کیا کہ اگر

الطاف حسین پاکستان میں موجود اپنے سلیپر سیل کو متحرک کرے گا اور امن و امان کی صورتحال خراب کرے گاتوحکومت میں آنے کے بعد اس پر سے سیاسی اور ہر طرح کی پابندیاں ختم کر دی جائیںگی،نوین جندال نے اس ضمن میں فنڈز مہیا کرنے کا وعدہ کیا ۔نوین جندال نے ویندر سنگھ نامی

شخص کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ فنڈزکابندوبست کرے گااورویندرسنگھ نواز شریف اور سجن جندال کا مشترکہ دوست ہے ۔مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ ویندرسنگھ سجن جندال کے ساتھ نواز شریف سے ملاقات کے لئے مری بھی آیا تھا،نوین جندال نے اس کے ترکی میں کچھ تنظیموں کے سرکردہ

افراد سے ملاقات کی اور پاکستان میں کارروائیاں کرنے کا ہدف دیا ،اس ضمن میں فنڈزبھی فراہم کئے گئے،اس ملاقات کی اطلاع نوین جندال نے باقاعدہ4جنوری 2020ء کو مریم نواز کو ٹیلیفون کے ذریعے دی ۔حالیہ دہشتگردی کے واقعات مریم نواز کی اسی منصوبہ بندی

کا نتیجہ ہیں جن میں پاک افواج اور عوام نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا،فوج ،رینجرز اورمدارس پر حملے اور علمائے کرام کی شہادتیں کر کے پاک سر زمین پر افرا تفری پھیلانا ایجنڈے میں شامل تھا۔انہوں نے کہاکہ مریم نواز کے ایجنڈے کا دوسرامرحلہ پی ڈی ایم کے قیام کے ساتھ

شروع اور باقاعدہ منصوبہ بندی سے فوج مخالف بیانیہ شروع کیا گیا۔بیک وقت فوج اور حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے کی مہم شروع کی گئی ،حکومت پر سکینڈلزتھوپے جانے کی کوشش کی گئی اورفوج کے کردارکو محدود کرنے کیلئے فوج کی اعلیٰ قیادت پر الزامات لگائے گئے ۔

پی ٹی ایم کے ساتھ بھی مریم نواز نے قریبی رواسم اختیار کئے اورقبائلیوں اور فوج کے درمیان خلفشاربڑھانے کی ذمہ داری محسن داوڑ کو سونپی گئی ۔فوج مخالف مہم کے پہلے مرحلے میں عاصم باجوہ پر حملہ کیا گیا،اسکے بعد قومی سلامتی کے ادارے کے سربراہ کو ہدف بنایا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف سوال ہے کہ بھارتی سفارتخانے کے افسران آپ کی تقریر پر کیوںکام کر رہے تھے؟۔بھارتی سفارتکار کس کی ایماء پر حسین نواز کے دفترآئے ،میاں صاحب آپ کو جواب دینا پڑے گا۔رات کی تاریکی میں جاتی امراء میں کیوں غیرملکی سفارتی و غیرسفارتی شخصیات

سے ملاقات کیلئے گئیں؟۔ان منفی سر گرمیوں کا مقصد قومی سلامتی کی ضامن پاک فوج کے مخالف بیانیے کوبیچنے کی حکمت عملی طے کرناتھا۔انہوںنے کہا کہ کوئٹہ جلسے میں لا پتہ افراد کے ورثاء کو بلا کر عوام کو فوج کے خلاف ابھارنے کی کوشش کی گئی،مریم نواز نے کوئٹہ

جلسے میںلا پتہ افرادکی جو تصاویر لہرائیں ان میں ایک دہشتگرد کی تصویر بھی تھی، مذکورہ دہشتگرد ہمارے قریبی دوست ملک چین کے انجینئرز پر حملوں میں ملوث تھا،اس بات کا علم آپ کے چچا اور مسلم لیگ(ن) کے صدرمحمد شہباز شریف کوبھی ہے ۔مسرت جمشیدچیمہ نے کہا کہ

قومی اسمبلی کے اجلاس میں سردار ایاز صادق کا بیان بھی مریم نواز کی ایماء پر داغاگیا ، ایاز صادق بھی ایک مہرہ کی مانند استعمال ہو گئے ۔ آج(ن)لیگ خودبخود بکھرنے لگی ہے ،شہباز شریف فیملی کاداخلہ محض اس لئے جاتی امراء میں بند ہے کیونکہ وہ بھی فوج مخالف بیانیے

میں اس حد تک جانے سے رک گئے ہیں،یہی وجوہات ہیں جن کی بناء پر جنرل (ر) عبد القادربلوچ نے بھی مریم نواز سے راستے جدا کرلئے۔آپ کا خون ، آپ کا سگا چچا جو ہر گھڑی آپ کے والد کے ساتھ وفادار رہا وہ بھی آج آپ کے اس منفی بیانیے سے خود کولا تعلق کئے ہوئے ہے ۔

آپ کے اپنے خاندان کے لوگ ،رہنمائوں اور کارکنان کی اکثریت آپ کی صف میں شامل ہو کراپنے گلے میں غداری کا طوق نہیں پہننا چاہتے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کاکون سا چینل اور نیوز پیپر ہے جس میں آپ کا ایجنڈا اور بیانیے کی بھرپور کوریج نہیں ہوتی ،یہ جو لڑائی ہے کسی ایک سیاسی جماعت کی ایک ادارے کے ساتھ نہیں بلکہ یہ لڑائی پاکستانی نظریے اور اینٹی پاکستانی نظریے کی لڑائی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.