آئین کا سبق دینے، پڑھنے اورماننے والوں کو غدار کہا جاتا ہے تو پھر بائیس کروڑ غدار ہیں،اگر یہ بات ہوئی تو نواز شریف اور مریم کا ساتھ نہ دینا، مریم نواز کا چیلنج

لاہور(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ اگر آئین کی پاسدداری کرنے والوں،آئین کا سبق دینے، پڑھنے اورماننے والوں کو غدارکہا جاتاہے توپھر بائیس کروڑ غدارہیں، کیا پولیس کم ترمخلوق ہے، پولیس والے انسان نہیں ہوتے،کالی وردی کیا کم تر وردی ہے،آئین کی کتاب میں لکھا ہے پاکستان میں کیا ہوگا،اس میں لکھا ہے پاکستان میں کیا نہیں ہو گا، اس

میں لکھاہے کس کا کیا حق ہے اور کس کاحق کیا نہیں ہے، کس نے کیا کام کرناہے اورکس کا کیا کام نہیں ہے، آئین کی کتاب پڑھو اور پھر دیکھونوازشریف کے مطالبات کیا ہیں، اگر نواز شریف کاایک بھی مطالبہ آئین سے متصادم ہے تو نہ نواز شریف کا اورنہ مریم کاساتھ دینا،جب آپ کاووٹ چوری ہوتاہے تو تجربے کی صلاحیت سے عاری شخص کو سروں پر مسلط کردیاجاتاہے، جب آرٹی ایس بٹھایا جاتاہے تو پورا ملک بیٹھ جاتاہے،معیشت بیٹھ جاتی ہے، عد ل کانظام بیٹھ جاتاہے، جب عدل کانظام بیٹھ جاتاہے تو پھر نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے آتے ہیں،جب آپ سے جواب مانگاجائے تو غداری کے فتوے بانٹتے ہو، یہ تاثرنہیں ملناچاہیے کہ ادارہ ایک جماعت کے پیچھے کھڑاہے، اس سے عوام اورادارے میں خلیج پیدا ہوتی ہے۔ان خیالات کااظہارانہوں نے مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں ”شیرجوان موومنٹ“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ خیبر پختوانخواہ کے نوجوانوں نے میسج کرکے شکوہ کیا ہے کہ انہیں مدعو نہیں کیا گیا،میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں خود خیبر پختوانخواہ میں اس تحریک کو لانچ کروں گی۔انہوں نے کہاکہ میں نے قدم بڑھادیا ہے اب آپ نے قدم بڑھانا ہے۔ میں بتاناچاہتاہوں کہ شیر جوان موومنٹ کیاہے۔72سال پہلے جو پاکستان ہمیں آج تک صحیح معنوں میں اس کا مقصد نظر نہیں آ سکا، میں شیر جوان موومنٹ کواس کی تحریک کا نام دیتی ہوں، پی ڈی ایم جس

کی آواز نواز شریف بنے اورووٹ کو عزت دوکا نعرہ لگایا،شیر جوان سیاسی شعوردینے کی تحریک ہے،آپ کے اندر حقوق کا احساس اورشعوربیدا کرنے کی تحریک ہے، نوجوانوں کو پاکستان کے قیام کامقصد یاد دلانے کی تحریک ہے،مادرملت کا پیغام،آئین کا مطلب سمجھانے کی تحریک ہے، جمہوری نظام پر اعتماددینے کی تحریک ہے، جو آج کل ہائبرڈ حکومت اس کے خطرات کو

سمجھانے کی تحریک ہے، مستقبل کی قیادت کوآپ میں سے اٹھنے کیلئے تیار کرنے کی تحریک ہے، آپ کی جو امیدیں ڈگمگا رہی ہیں خواب ٹوٹ رہے ہیں یہ ان کو بکھرنے سے بچانے،جوڑنے اور سمیٹنے کی تحریک ہے۔مریم نواز نے کہا کہ جانتے ہو غلامی کتنی بڑی سزا ہے، غلام سے بڑی کوئی اورسزانہیں،یہ وہ بلاہے جو انسانوں سے بات کرنے کی آزادی چھین لیتی ہے، یہ وہ زنجیر ہے

جو طاقتور کے آ گے جھکنے پر مجبور کرتی ہے، سر پھینک کر خوف میں مبتلا ہو کر بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکے پر مجبور کرتی ہے، یہ وہ پردہ ہے جوہمارے ذہنوں پر ڈال دیا جاتاہے تاکہ حق اورسچائی کا راستہ نظر نہ آئے اور آپ غلط کوغلط نہ کہہ سکیں، اپنا حق نہ مانگ سکیں،حقوق پر خاموش ہو جائیں اورآپ کووہی دیا جائے جو طاقتور کی مرضی ہے، اگر کوئی اپنا حق مانگے تو

اس کوکالے پانی کی سزا سنا دی جائے۔ انہوں نے کہاکہ صوبہ بلوچستان جوقابل فخرصوبہ ہے اس کے سوئی کے مقامسے کھربوں روپے کی گیس سپلائی ہوتی ہے لیکناس کے طلبہ کودی گئی چھ سو سکالر شپس ان سے چھین لی گئیں،اگر آپ کو آپ کا حق بھیک کی طرح دیا جائے گا تو یہ سلوک نہ نواز شریف اورنہ مریم نواز کو قبول ہے، غلامی وہ ہوتی ہے جب کراچی میں آئی جی کواغواء

کر لیاجاتاہے اوراس کو گھنٹوں حبس بے جا میں رکھا جاتاہے اورکہا جاتاہے کہ کیپٹن صفدر کو گرفتارکرو اور وہ کہتا ہے کہ میں نہیں گرفتار کرسکتا، اسے کہاجاتا ہے کہ پھر آپ یہاں سے نہیں جا سکو گے، میں صبح ساڑھے چھ بجے سوئی تو میرے کمرے کاتوڑکر اندرآ گئے، کیا ریاست اپنی بیٹیوں اوربہنوں کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہے۔اگر ہم نے آج آوازنہ اٹھائی تو یہ سلسلہ پاکستان کے ہر

گھر میں پہنچ جائے گا اور پھر کوئی بچانے والا کوئی نہیں ہوگا،ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ کیا پولیس کم ترمخلوق ہے، پولیس والے انسان نہیں ہوتے،کالی وردی کیا کم تر وردی ہے، کیا پاکستان ہم نے اس لئے حاصل کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ آپ کو آئین کی بات سمجھتی آتی ہے، یہ آپ کے حقوق کی کتاب ہے اس میں لکھا ہے کہ پاکستان میں کیا ہوگا اس میں لکھا ہے کہ

پاکستان میں کیا نہیں ہوگا، اس کتاب میں لکھا ہے کہکس کا کیا حق ہے اور کس کاحق کیا نہیں ہے، کس نے کیا کام کرناہے اورآئین کی کتاب میں لکھاہے کس کا کیا کام نہیں ہے، آئین کی کتاب پڑھو اور پھر دیکھونوازشریف کے مطالبات کیا ہیں، اگر نواز شریف کاایک بھی مطالبہ آئین سے متصادم ہے تو نہ نواز شریف کا اورنہ مریم کاساتھ دینا، نواز شریف آئین کی پاسداری کی بات کر رہا ہے،

فرض کی پاسداری کی بات کر رہا ہے عدلیہ کی آزادی کی بات کر رہا ہے، سلیکٹڈحکمران ہیں کہتے ہیں کہ ایک جج کو اپوزیشن بڑاچڑھا رہی ہے، معلوم ہے ناں حکومت کس جج کی بات کررہی ہے؟۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کوکس نے نکالنے کی سازش کی تھی اورکیوں کی تھی۔مریم نواز نے کہا کہ ہم نے وردی کے اوپر الزام نہیں لگانا، فوجیوں کی وہ والی وردی ہے جو سیاچن میں ہماری

حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوتے ہیں، جب یہ ماؤں اور بہنوں کے پاس آتی ہے تو خون آلود ہوتی ہے، ہم نے وردی پر الزام نہیں لگانا۔ انہوں نے کہاکہ پاپا جونز اور پیزا والوں کے خلاف نواز شریف کی بات عوام کوسب سمجھ آرہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو ایک نوکری پیشہ ہے قوم اس سے سوال کرتی ہے کہ آپ کے پاس کھربوں کی جائیدادیں کہاں سے آئیں،قوم یہ جانناچاہتی ہے کہ آپ ایک

نوکری پیشہ ہونا آپ کے پاس پوری دنیا میں پھیلا کاروبار اورجائیدادیں کہاں سے آئی ہیں؟۔ اگرتین بار کا منتخب وزیراعظم اپنی بیٹی کے ساتھ احتساب کے سامنے پیش ہو سکتاہے تو پاکستان میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے۔، یہاں آسمان سے کوئی نہیں اترا سب کو جواب دینا پڑیگا،نواز شریف یہی بات کر رہا ہے، نواز شریف عدلیہ کی آزادی کی بات کر رہاہے، میڈیا کی آزادی کی بات کر رہا ہے،

میڈیا کوایک چیز بھیج دی جاتی ہے اور مجبور کیاجاتاہے رٹا رٹایا سبق پڑھ دے جوانکارکردیتے ہیں انہیں اٹھا کر نیب کی جیلوں میں ڈال دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سبز کتاب آئین کی کتاب کوجو جوتے تلے روند تے ہیں انہیں سزا دو تاکہ مشرف جیسے دوبارہ پیدا نہ ہوں،عوام کامینڈیٹ چوری کرنے والوں کوکٹہرے میں کھڑاکرو تاکہ عوام ان سے سوال کریں کہ آپ کو ان کا ووٹ

چوری کرنے کی جرات کیسے ہوئی، ووٹ کوعزت دو ایک نعرہ نہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو لیپ ٹاپ ملتے ہیں،سکالرشپس ملتی ہیں، وظائف ملتے ہیں، یونیورسٹیاں او رکالجز بنتے ہیں،یوتھ لونزملتے ہیں،بائیس بائیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ لوڈشیڈنگ صفر پر آ جاتی ہے، بم دھماکے ختم ہو جاتے ہیں،ہرروز خودمختاری ہونے پر ڈرون حملے ختم ہو جاتے ہیں،دشمن ملک کاوزیر اعظم خود

چل کرآپ کے ملک آتاہے اور، آپ کے وزیر اعظم کے گھر آتاہے،مینار پاکستان پر جا کرپاکستان کے وجود کو تسلیم کرتاہے۔جب ووٹ کوعزت ملتی ہے تو مہنگائی 45سال کی کم ترین سطح پر آتی ہے،گروتھ 1.7سے5.7پر جاتی ہے،میٹروز بنتی ہیں،موٹرویز کے جال بچھتے ہیں،صنعتیں بنتی ہیں،ساٹھ ارب ڈالرکا سی پیک آتا ہے، پاکستان فیٹف یسے گرے لسٹ سے نکل آتاہے لیکن جب ووٹ کو

عزت نہیں ملتی تو یہ سب چیزی نہیں ہوتیں، نالائقی پاکستان کو گھیر لیتی ہے،کاروبار بند ہو جاتاہے، عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا،کوئی ملک آپ کے ساتھ کھڑانہیں ہوتا، کشمیر بھی ہاتھ سے چلاجاتاہے آپ کشمیریوں کا مقدمہ ہاربیٹھتے ہیں۔ مریم نوازنے کہاکہ اس حکومت نے17ارب ارب کاتاریخی قرضہ لیا اورقوم کا مستقبل گروی رکھ دیا،17ہزار ارب کا نیا قرض ملک اورعوام پر لگنے

کی بجائے ہے آٹا،چینی چوروں کی جیبوں میں چلا گیا ہے، مافیاز کی جیبوں میں چلا گیاہے، بجلی چوراور گیس چور مافیاز کی جیبوں میں چلا گیا، 17ہزارارب روپے کا قرضہ لینے کے باوجود پورے پاکستان میں ایک اینٹ بھی نہیں لگی،یہ ہوتا ہے جب آپ کاووٹ چوری ہوتاہے تو تجربے کی صلاحیت سے عاری شخص کو سروں پر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ جب آرٹی ایس بٹھایا جاتاہے تو

پورا ملک بیٹھ جاتاہے،معیشت بیٹھ جاتی ہے، عد ل کانظام بیٹھ جاتاہے، جب عدل کانظام بیٹھ جاتاہے تو پھر نظریہ ضرورت کے تحت فیصلے آتے ہیں،پھر ارشد ملک جیسے جج کواستعمال کیا جاتاہے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت صدیقی کی کردارکشی کی جاتی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ جب آپ سے جواب مانگاجائے تو غداری کے فتوے بانٹتے ہو، اگرا ردولغت میں آئین کی

پاسدداری کرنے والوں کو،آئین کا سبق دینے والوں اور پڑھنے والوں اور ماننے والوں کو غدارکہا جاتا ہے تو پھر بائیس کروڑ غدارہیں، غداری کے القابات کے پیچھے کہانی جاننا چاہتے ہو، ایک بیان تھاکہ ابھی نند ن کوچھوڑتے وقت حکومت کی ٹانگیں کانپ رہی تھی جبکہ دوسری طرف ایک وفاقی وزیر کابیان آتاہے کہ جس میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ شاید پلوامہ کا واقعہ پاکستان

کا اپنا تھا،اب بھارتیوں کی مرضی ہے وہ دونوں کوجورنگ دیدیں،اس بیان کا فائدہ اٹھا کر بھارت کے وزیر اعظم نے پاکستان کو چارج شیٹ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈی جی آئی ایس پی آرپریس کانفرنس کرتے ہیں تووہ ایاز صادق کی بات کرتے ہیں حالانکہ ایاز صادق نے افواج پاکستان کی بات ہی نہیں کی وہ تو جعلی حکومت کی بات کررہے ہیں۔ آپ وفاقی وزیر کے الزامات پر بات نہیں کرتے۔

جب تفریق سامنے آئے گی توپھر سوالات اٹھیں گے،اس کا عمران خان حکومت کو فائدہ ہواہے، انہیں اداروں کو سیاست میں گھسیٹنا سوٹ کرتاہے۔ایسا تاثر نہیں ملناچاہیے کہ آپ ایک سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑے ہوں،تفریق نہیں ہونی چاہیے،یہ غلط روایت ہے، اس سے عوام اور اداروں کے درمیان خلیج بڑھتی ہے۔اس کی اصلاح کرنی چاہیے اور پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ مریم

نواز نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی بہن کے ساتھ عہد کرناہے آئین و قانون پر چل کرووٹ کی عزت کراؤگے،اپنی رائے اپنا ووٹ اوراپنے حق کی نگہبانی کرو گے، میرے ساتھ عہد کرنا ہے جمہوری اور پر امن راستے پر چل کرحق کے لئے آوازاٹھاؤ گے،اپنے

ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندوں کے لئے آواز اٹھانی ہے،کسی کواجازت نہیں دو گے کہ وہ آپ کے منتخب نمائندوں کا استحصال کرے، ان کی جوابدہی آپ کرسکتے ہو،وہ آپ کے ووٹ سے آئیں گے اور جائیں گے،پاکستان کو ایسا ملک بناؤ گے جو اپنے فیصلے خود کرے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *