گستاخانہ خاکوں کے پیچھے میری حکومت کا ہاتھ نہیں، مسلمانوں کے شدید ردعمل کے بعد فرانسیسی صدر نے گھٹنے ٹیک دیے

پیرس (این این آئی)فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں سے متعلق ان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پھیلایا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ میں گستاخانہ خاکوں کا حامی ہوں۔الجزیرہ ٹی وی کو دئیے گئے خصوصی انٹرویو میں فرانسیسی صدر نے کہا وہ گستاخانہ خاکوں کے حوالے سے مسلمانوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں تاہم انہیں جاننا ہوگا کہ گستا خانہ خاکے حکومتی منصوبہ نہیں اور نہ اسے سرکاری حمایت حاصل ہے۔انہوں نے کہاکہ میرے خیال سے اشتعال کی وجہ میرے حوالے سے منسوب جھوٹی باتیں ہے، گستاخانہ خاکوں سے متعلق میرے بیان

کو توڑ مروڑ کر پھیلایا گیا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جیسے میں اِن گستاخانہ خاکوں کا حامی ہوں۔میکرون کا کہنا تھا کہ گستاخانہ خاکے نجی صحافتی اداروں نے شائع کیے جو حکومتی اجارہ داری سے آزاد ہیں۔فرانسیسی صدر کا کہنا تھاکہ کچھ لوگ اسلامی تعلیمات کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں، اسلامی تعلیمات کی غلط تشریح کرکے، قتل وغارت، تشدد اور اشتعال انگیزی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے نام پر جو چیز پھیلائی جارہی ہے وہ خود مسلمانوں کیلئے وبال جان بن چکی ہے، دہشتگردی کا خمیازہ بھگتنے والے 80فیصد لوگ مسلمان ہیں۔دوسری جانب کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی سب کا حق ہے تاہم یہ آزادی حد سے باہر نہیں ہونی چاہیے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متنازع فرانسیی جریدے چارلی ہیبڈو کی جانب سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے سوال پر جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ ہم ہمیشہ آزادی اظہار رائے کا دفاع کریں گے مگر اس کی ایک حد ہونی چاہیے، ہمیں دوسروں کیلئے احترام کے ساتھ کام کرناچاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ غیرضروری طورپرلوگوں کی دل آزاری نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنیالفاظ اور افعال کے دوسروں پر اثرات کا علم ہونا چاہیے اور ایسی کوئی بات نہیں کہنی چاہیے جس سے ہمارے ساتھ رہنے والوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے اور خاص طور پر ایسے افراد جنہیں معاشرے میں بڑے پیمانے پر امتیازی سلوک کاسامنا ہے۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ان پیچیدہ مسائل پر ذمہ داری کیساتھ بحث کے لیے معاشرہ تیار ہے۔ کینیڈا کے عوام اس مشکل وقت میں فرانسیسی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.