مریم نواز کوکوئٹہ جلسے میں بلوچی چادر پیش کرنے والا کریمنل شخص نکلا حسن بروہی کیخلاف کئی مقدمات درج،جیل بھی جا چکا

اسلام آباد،کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)مسلم لیگ ن کی نائب صدرمریم نواز شریف گزشتہ روز تحفے میں دئیے گئے سفید اورسرخ کلر کے بلوچی لباس کوزیب تن کرکے کوئٹہ جلسے میں شریک ہوئیں۔مریم نواز کو اس موقع پر بلوچی چادر بھی پیش کی گئی،نجی ٹی وی کے

مطابق مریم نواز کو بلوچی چادر پیش کرنے والا کرمنل ہے۔مریم نواز کوبلوچی چادر بطور تحفہ پیش کرنے والے شخص کا نام حسن بروہی ہے۔ حسن بروہی کے خلاف مقدمات درج ہیں جب کہ وہ جیل کی ہوا بھی کھا چکا ہے۔دریں اثناجلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے فرانس میں گستاخانہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ربیع الاول میں جب مسلمان نبی پاک کی ولادت کا مہینہ منا رہے تھے تو فرانس کی ایک بلڈنگ سے توہین آمیز خاکے لٹکائے جن سے ہمارے جذبات بہت بری طرح محروح ہوئے ہیں۔انہوں نے اس موقع پر شرکا سے کہاکہ آپ ہاتھ کر واقعہ پر میرے ساتھ احتجاج کریں۔بلوچستان کے طلبا کے احتجاج کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پنجاب اور باقی صوبوں کے بچے جتنے عزیز ہیں اتنے بلوچستان کے بچے ہمیں مجھے عزیز ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سوئی کے مقام سے اربوں روپے کی نکلنے والی گیس بلوچستان پورے پاکستان کو فراہم کرتا ہے لیکن بہت افسوس کی بات ہے کہ چھ سو بچوں کے سکالر شپ وہ اس حکومت نے ختم

کر دیئے اور بلوچستان کے بچے بارہ دن سے سڑکوں پر رل رہے تھے کسی کو رحم نہیں آیا انہوں نے کہاکہ امید کرتی ہوں کہ ان کے سکالرشپ بحال ہو نگے۔انہوں نے کہاکہ بلوچی لباس پہن کر بلوچستان کو پیغام دیناچاہتی ہوں کہ جتنی محبت مجھے پنجاب سے ہے اس سے زیادہ محبت

مجھے بلوچستان کے عوام سے ہے۔مریم نواز نے کہاکہ یہاں سے نو جوانوں کو اٹھا لیا جاتا ہے، کبھی کبھی مسخ شدہ لاشیں مل جاتی ہیں اکثر وہ ہمیشہ کیلئے لاپتہ اور غائب ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والی بچہ کے تین بھائیوں کو گھروں سے اٹھا لیا گیا اور کئی

سال ہوگئے ہیں ان تین بھائیوں کا کچھ پتہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اکبر بگٹی شہید کا واقعہ بھی یاد آرہا ہے،کس طرح ایک آمر نے مکے لہرا کر کہا تھا کہ ہم تمہیں اس طرح مار یں گے کہ تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا اس نے نہ صرف ایک جمہوریت پسند لیڈر کو قتل کیا بلکہ

اس کے چاہنے والوں کو چہرہ دیکھنے کی بھی اجازت نہیں دی۔انہوں نے کہاکہ جب پرویز مشرف کو عدالت نے سزا سنائی تو عدالت ہی لپیٹ دی گئی۔انہوں نے کہاکہ مجھے کوئٹہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے تاریخی الفاظ آج میرے دل اور دماغ میں گونج رہے ہیں انہوں نے کہا

میرے عوام کے ووٹ کو عزت دو، اپنے حلف کی پاسداری کرو، آئین کا احترام کرو، پالیسیاں بنانا تمہارا کام نہیں، یہ عوام کے نمائندوں کو کر نے دو۔ انہوں نے کہاکہ 72برس گز ر گئے کیا قائد اعظم کی اس تلقین پر علمدر آمد ہوا؟کیا حلف کو یاد رکھا گیا، کیا سیاست میں مداخلت بند ہوئی۔

کیا آئین کا احترام کیا گیا، کیا عوامی نمائندوں کو پالیسیاں بنانے دی گئیں، کیا عوام اور عوامی نمائندوں کا حکم مانا گیا،قائد اعظم کی روح بھی دیکھ رہی ہے کہ ان کی تلقین کو آج مٹی میں ملا دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ عوام کا مطالبہ ہے کہ ووٹ کو عزت دو، اپنے حلف اور آئین کی پاسداری کرو۔

سیاست سے دور ہو جا اور عوام کے منتخب نمائندوں کو حکومت کر نے دو، ریاست کے اوپر ریاست مت بنا،جعلی حکومتیں مت بنا،عوامی مینڈیٹ پر ڈاکے مت ڈا۔ انہوں نے کہاکہ غربت، پسماندگی اور بد حالی اور روز گاری اور بلوچستان کے اس حال میں پہنچنے کی ایک ہی وجہ

ہے کہ آپ کے ووٹ کو عزت نہیں ملتی، حکومت اس کی بنتی ہے جس کی باگ ڈور آپ کے ہاتھ میں نہیں کسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے،اس کی ڈوریں آپ نہیں کوئی اور ہلاتا ہے، حاکم کے گریبان پر آپ کا نہیں کسی اور کا ہاتھ ہوتا ہے، وہ آپ کو نہیں کسی اور کو جواب دہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے عظیم فرزند اور مجھے قائد اعظم کے با اعتماد ساتھی قاضی محمد عیسی کی یاد آرہی ہے جس کا ایک قابل فخر فرزند ایک سپریم کورٹ کا جج ہے،آپ کو مبارکباد ہو آپ نے اس کیلئے آواز اٹھائی اور سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اس کے خلاف ریفرنس بد نیتی پر

مشتمل تھا جس نے بد نیتی کی، جس نے شفاف کر دار کے حامل ججزحضرات کے اوپر دھبہ لگانے کی کوشش کی اور نوکریوں سے فارغ کر نے کی کوشش کی آج ہم سب سلیکٹڈ عمران خان اس کے سلیکٹرز کو کہتے ہیں اس تاریخی ناکامی پر سب لوگوں کو استعفی دینا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ سے درخواست کرتی ہوں جس طرح آ پنے ایک آزاد عدلیہ پر حملہ کو روکا ہے اسی طرح آگے بڑھیئے ایک اور شفاف کر دار کے حامل جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو بھی انصاف کیجئے،وہ سچ بولنے کی پاداش میں سزا بھگت رہے ہیں وہ آنے والے دنوں

کے چیف جسٹس تھے۔مریم نواز شریف نے کہاکہ وہ وقت آرہا ہے کہ تمہاری دو سال کی نہیں 72سال کی محنت ضائع ہو نے کو ہے، اب عوا م کی حاکمیت کا سورج طلوع ہونے کو ہے،وو ٹ عزت پانے کو ہے۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ بھی یہاں کا بادشاہ رہاہے۔

بلوچستان کے اندر ووٹ کی عزت سے کھیلتا رہا ہے، ہم پوچھتے ہیں ایک نوکری پیشہ ہونے کے باوجود تمہارے پاس اربوں کھربوں کے اثاثے کہاں سے آئے ہے جس پر وہ چپ ہے،ہم ان سے 99کمپنیوں پوچھتے ہیں وہ چپ ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم پوچھتے ہیں رسیدیں دیں وہ چپ ہے۔

انہوں نے کہاکہ سلیکٹڈ اور سلیکٹر بھی ان سے پوچھنے کی جرات نہیں کر تا، نہ کوئی نیب، نہ ایف آئی اے اور نہ کوئی عدالت پوچھتی ہے؟ایسا نہیں چلے گا، حساب تو آپ کو دینا پڑے گا، رسیدیں دکھانا پڑیں گی۔ انہوں نے کہاکہ چیئر مین سی پیک سے بھی استعفیٰ دیں۔ مریم نواز شریف نے

کہاکہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا وقت آگیا ہے، یہاں بغاوت اور غداری کے سرٹیفکیٹ نہیں بٹیں گے، لاپتہ افراد نہیں ہونگے، آپ کے وسائل کا استحصال نہیں ہوگا، کسی کو ووٹ کی عزت سے کھیلنے کا حوصلہ نہیں ہوگا، وہی پاکستان ہوگا جس کیلئے آپ کے بزرگوں نے جدو جہد کی جس کیلئے آپ اور قائدین یہ جدو جہد کر رہے ہیں، کٹھ پتلیوں کا کھیل ختم ہونے کو ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.