انسان کے بالغ ہوجانے کی نشانی کیا ہے ؟

حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں ،میرے بچپن کی بات ہے ایک دن میں نے ایک عالم سے پوچھا کہ انسان کے بالغ ہوجانے کی نشانی کیا ہے ؟اس ے جواب دیا پندرہ سال کی عمر کو پہنچ جانا ۔اس کے بعد اس دانا شخص نے کچھ اور نشانیاں بھی بتائیں ۔مثلاََ شادی کرنے کی ٰخواہش پیدا ہونا وغیر ہ اور یہ ساری باتیں بتانے کے بعد بولاان سب باتوں کے علاوہ انسان کے

بالغ ہوجانے کی حقیقی علامت یہ ہے کہ وہ خدا کو راضی کرنے کے لئے اس سے زیادہ کوشش کرے جتنی کوشش دنیاوی مال ودولت حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے کیونکہ یہی سمجھ عقل کے پختہ اور حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں کہ دمشق کی جامع مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا کسی علمی مسئلے پر دوستوں سے گفتگو کر رہا تھا کہ ایک نوجوان آیا اور اس نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کوئی شخص فارسی زبان بھی جانتا ہے؟میں نے سوال کیا، تم یہ بات کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے کہا، ایک بوڑھا جس کی عمر ڈیڑھ سو سال ہے، جاں بلب ہے اور فارسی زبان میں کچھ کہہ رہا ہے، ممکن ہے وصیت کر رہا ہو۔ یہ سن کر میں اس کے ساتھ ہو لیا۔ جا کر دیکھا تو ایک بوڑھا مرض الموت میں بڑبڑا رہا تھا۔

تمنا تھی کچھ اور جیتا ابھی
مگر حیف پہنچا پیام اصل
میں بیٹھا ہی تھا عمر کے خوان پر
ہوا حکم اٹھ اور یہاں سے نکل


میں نے بوڑھے کی باتوں کا مطلب سمجھایا تو نوجوان بہت حیران ہوا کہ اتنی عمر پاکر بھی اس کے دل میں زندہ رہنے کی ہوس ہے۔بوڑھا بولا، تم اس شخص کی تکلیف سے آگاہ نہیں ہو سکتے جس کا دانت اکھاڑا جا رہا ہو اور نہ اس شخص کی تکلیف کا اندازہ کر سکتے ہو جس کی جان نکل رہی ہو۔ میں نے کہا، اے بزرگ آپ اپنے روبرو اس موت کا احساس طاری نہ ہونے دیں۔ دیکھا گیا ہے کہ موت کے قریب پہنچ جانے والے صحبت یاب ہو جاتے ہیں آپ کی منشا ہو تو کسی طبیب کو بلایا جائے۔

بوڑھا بولا، طبیب بوڑھے مریض کو دیکھ کر علاج سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ مالک مکان کوٹھڑیوں کی آرائش کی فکر میں ہے اور سیلاب پشتوں کو کھو کھلا کر رہا ہے۔ ایک بوڑھا نزع کے عالم میں رو رہا تھا اور اس کی بیوی اس کے صندل لگا رہی تھی۔ جب مزاج کا اعتدال قائم نہیں رہتا تو ہر تدبیر ناکام ہو جاتی ہے۔حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں انسان کی اس کمزوری یا نادانی کی طرف اشارہ کیا ہے کہ خواہ کتنی لمبی عمر بھی پائے، زندگی سے اس کی طبیعت سیر نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ اپنے خاص رنگ میں انہوں نے یہ حقیقت بھی بیان کی ہے کہ موت امررہی ہے جسے ٹالا نہیں جا سکتا۔اس کے صاحب فہم ہونے کی نشانی ہے ۔اگر کسی میں یہ نشانی نہ ہو پائے تو خواہ وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہو اسے  بالغ خیال نہ کرنا

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *