ملک کا آئین اور کوئی بھی قانون ججوں اور افواج پاکستان کو یہ حق نہیں دیتا،سپریم کورٹ کا انتہائی اہم فیصلہ

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے ہاؤسنگ سوسائٹی کیس کا فیصلہ جاری کردیا ہے۔فیصلے میں ہائیکورٹ کا ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے زمین کے حصول سے متعلق اختیار نہ رکھنے کے حکمنامے کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔تفصیلی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا 27 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ بھی شامل ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اضافی نوٹ میں کہا ہے ملک کا آئین

اور کوئی بھی قانون ججوں اور افواج پاکستان کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ زمین حاصل کرسکیں،کوئی بھی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ چیف جسٹس صاحبان اور جج صاحبان زمین لینے کے حقدار ہیں،حکومت کا جج صاحبان کو پلاٹس دینا ان کو نوازنے کے مترادف ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اضافی نوٹ میں مزید کہا کہ عوام کی نظروں میں جج صاحبان کی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے خودمختار عدلیہ انتہائی ضروری ہے، کوئی وکیل یا سرکاری ملازم ایک پلاٹ سے زیادہ پلاٹ لینے کا حقدار نہیں، کسی مخصوص قانون کو شامل کیے بغیر وزیراعظم سمیت کوئی بھی اپنے صوابدیدی اختیار استعمال کرکے کسی کو پلاٹ نہیں دے سکتا،کم آمدنی والے سرکاری ملازمین اور جونیئر افسران کے لیے کم قیمت پلاٹ دستیاب ہونے چاہیں۔ اضافی نوٹ کے مطابق بری، بحری اور فضائی افواج یا انکے ماتحت کوئی بھی فورس رہائشی، زرعی یا کمرشل زمین لینے کا حق نہیں رکھتی۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اضافی نوٹ میں ملکی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جب جنرل گریسی پاکستانی فوج کو کمان کر رہے تھے تو ایوب خان نے پلاٹ لینے کی درخواست کی تھی، اس وقت کے آرمی چیف جنرل گریسی نے ایوب خان کو پلاٹ دینے سے انکار کر دیا تھا،حیران کْن طور پر ایک برطانوی افسر نے اس ملک کی زمین کو اسی دھرتی کے سپوت سے بچایا، شجاع نواز نے اپنی کتاب میں لکھا کہ فوج اور

سول بیوروکریسی میں ایک سے زائد پلاٹس کا کلچر عام ہے، گزرتے وقت کے ساتھ فوج میں ایسی ”سویٹ ہارٹ” ڈیلز کو قابلِ قبول بنایا گیا، آئین کے تحت سرکاری سول اور فوجی ملازمین مساوی حیثیت رکھتے ہیں،۔اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ سول سرونٹس ساٹھ سال، ہائیکورٹس کے چیف جسٹس باسٹھ سال کی عمر میں ریٹائر ہوتے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور جج صاحبان

کی ریٹائرمنٹ کی عمر پینسٹھ سال ہے، اگر ججوں کے پاس رہنے کے لیے جگہ نہیں تو انہیں زندگی گزارنے کے لیے معقول پینشن دی جاتی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اضافی نوٹ نے ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے کہا مالی سال دو ہزار بیس، اکیس کیلئے پنشن کی مد میں چار کھرب ستر ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ایک کھرب گیارہ ارب روپے سرکاری ملازمین کی پنشن کیلئے

مختص کیے گئے ہیں، تین کھرب 59 ارب روپے سے زائد کی رقم افواج پاکستان کے ریٹائرڈ افسران اور اہلکاروں کیلئے رکھی گئی ہے،پنشن کی مد میں ادا ہونے ہونے والی رقم سویلین حکومت چلانے کے اخراجات کے تقریبا مساوی ہے۔ اضافی نوٹ میں کہا گیا حکومت بیرون ممالک سے قرض لیکر خسارہ بڑھا رہی ہے، رواں مالی سال میں 29 کھرب 46 ارب روپے سے زائد کی رقم

قرض کی صورت میں ادا ہونی ہے، وہ بچے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے، اور وہ بجے جو ابھی پیدا ہونے ہیں انکے بچے بھی غربت کا شکار ہونگے، پاکستان کا فوجی اور عدالتی نظام برطانوی طرز پر قائم ہے،بیشتر پاکستانیوں کو بنیادی

رہائش کی سہولت تک میسر نہیں،قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ غریبوں اور ناداروں کی مدد کی جائے، ملک کی زمین اشرافیہ میں تقسیم کرنا قرآن کے اصول کی نفی ہے،اس فیصلے کی کاپی اردو زبان میں بھی جاری کی جائے گی۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *