شوکت خانم ہسپتال کے اکائونٹ میں اچانک لاکھوں درہم کہاں سے آئے؟ عمران خان بھی حیران، اتنابڑاسخی دل کون نکلا؟حیران کن انکشاف

شارجہ کے حکمران کی اہلیہ شیخہ جواہر بنت محمد القاسمی نے پشاور کینسر اسپتال کے لیے 44 لاکھ درہم گرانٹ کا اعلان کردیا۔نجی ٹی وی رپورت کے مطابق شیخہ جواہر کی جانب سے اعلان کی گئی رقم پاکستانی روپے میں تقریباً 20 کروڑ روپے بنتی ہے اور یہ رقم شوکت خانم اسپتال پشاور کے لیے جدید ترین طبی آلات کی فراہمی پر خرچ کی جائے گی

20 ۔پشاور کینسر اسپتال میں جدید سہولتوں سے 2 ہزار سے زائد مریضوں کو فائدہ ہوگا۔شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے پشاور ہسپتال کے قیام سے خیبرپختونخواہ اور ملحقہ علاقوں کے مریضوں کو اُن کے گھر کے نزدیک بین الاقوامی معیار کی کینسر کے علاج کی سہولت میسر آگئی ہے۔ کینسر کا علاج بہت مہنگا ہوتا ہے، مریض اس سے پہلے لاہور جا کر مفت علاج کی سہولت سے فائدہ تو اٹھاتے تھے لیکن گھر سے دور علاج کیلئے جانے میں کئی قباحتیں اور مشکلات پھر بھی حائل ہوتی تھیں۔ان مریضوں میں ایک کہانی بٹ خیلہ مالا کنڈ سے تعلق رکھنے والے محمد اکرام کی بھی ہے۔ چوالیس سالہ محمد اکرام اپنے علاقے میں ڈرائیور ہے،اس کا ایک بچہ ہے جس کی عمر چودہ سال ہے اور چھٹی کلاس کا طالب علم ہے۔ اکرام کو گزشتہ سال پیٹ میں سخت تکلیف محسوس ہوئی۔ اس نے مقامی ڈاکٹر کو دکھایا، جس نے اسے پشاور جانے کا مشورہ دیا، جہاں پر اُس کو ریکٹم ٹیومر تشخیص ہوا۔ تمام گھر والے سخت پریشان ہوگئے کیونکہ کینسر بیماری ہی ایسی ہے۔ محدود آمدنی کے سبب اکرام کیلئے زندگی کی اس سب سے بڑی پریشانی سے نبردآزما ہونا ناممکن نظر آرہا تھا۔ ایسے میں ایک پڑھے لکھے دوست نے لاہور میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال میں علاج کیلئے جانے کا مشورہ دیا۔

اکرام نے کچھ پیسے ادھار پکڑے اور لاہور آگیا اور اُس کو ہسپتال میں علاج کیلئے رجسٹر کرلیا گیا۔ڈاکٹر نے کیموتھراپی کے چار سیشن تجویز کئے اور پہلا سیشن لاہور میں ہوا، جس کیلئے اُسے لاہور میں قیام کرنا تھا۔ اکرام نے دو دن کاسفر طے کرکے لاہور میں پہلی کیمو دوائی لگوائی اور پھر اُس نے واپسی کی راہ لی۔ اس تمام عمل میں اُس کا لگ بھگ ایک ہفتہ لگ گیا۔ لیکن غریب آدمی کیلئے یہ بھی بہت اہم تھا کہ اُس کا علاج تو شروع ہوا۔

گزشتہ ماہ پشاور میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کے آغاز کے بعد ڈاکٹر نے دوسرے کیموتھراپی سیشن کیلئے اکرام کو پشاور آنے کا کہا تو اکرام بہت خوش تھا۔ وہ اپنے گھر سے صبح صبح پشاور کیلئے روانہ ہوا اور ایک سے دو گھنٹوں میں بٹ خیلہ، مالاکنڈ سے پشاور پہنچ گیا جہاں پر اُس کو کیمو کی دوسری خوراک دی گئی اور وہ چند گھنٹوں میں دوائی لگوا کر اپنے گھر کیلئے روانہ ہوگیا۔ اکرام کے مطابق اس سے جہاں وہ لمبے سفر کی تکلیف سے بچ گیا بلکہ اس کا بہت سا خرچہ بھی بچ گیا اور وقت کی بھی بہت بچت ہوئی ہے۔شوکت خانم کینسر ہسپتال پشاور میں تمام عملہ مقامی ہے جنہوں نے لاہور کے شوکت خانم کینسر ہسپتال میں ٹریننگ حاصل کی ہے۔

سن 1985میں عمران خان کی شفیق والدہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوکر خالق حقیقی سے جا ملیں ۔ایک بیٹے کے لئے یہ دکھ انتہائی جاں گسل تھا اور سب سے زیادہ رنجیدہ کردینے والی بات یہ تھی کہ اس وقت پاکستان میں کینسر کا کوئی خاطر خواہ علاج تھا نہ ہی کوئی ہسپتال ۔ والدہ کے علاج کے دوران اس نے پاکستان کے لاتعداد مجبور اور بے بس کینسر کے مریضوں کو کسمپرسی کی حالت میں موت کا نوالہ بنتے دیکھا توپاکستان میںایک ایسا ہسپتال بنانے کا ارادہ کیاجہاں کینسر کے علاج کی جدید ترین سہولیات ہر فرد کے لیے بلا امتیاز دستیاب ہوں۔

جب اس نے شوکت خانم ہسپتال بنانے کا اعلان کیا تو لوگوں نے کہا کہ کینسر کا ہسپتال نہیں بن سکتا اگر بن بھی گیا تو مریضو ں کا مفت علاج نہیں ہوسکتا ۔ لیکن ہسپتال بن بھی گیا اور 75فیصد سے زائد مریضوںکا مفت علاج بھی ہو رہا ہے اور آج اس ہسپتال کو 25سال مکمل ہونے پر سلور جوبلی منائی جا رہی ہے ۔ اگر انسان کی نیت صاف اور مقصد نیک ہو تو اللہ تعالیٰ کامیابی دے دیتا ہے۔ پھر اس عظیم ہسپتال کا افتتاح عام رسم و رواج کے بر عکس ہسپتال کی پہلی مریضہ کے ہاتھوں کروایا گیا۔ ایسی مثال بھی د نیا میں کم ہی ملتی ہے ۔

شوکت خانم ہسپتال نے ایک قلیل مدت میں 29دسمبر 1994کو اپنے دروازے مریضوں کے لیے کھول دیے۔ خدمت کا یہ سفر اسی طرح جاری رہا اور مارچ 2011 میں پشاور میں دوسرے شوکت خانم ہسپتال بنیاد رکھی گئی جو 29دسمبر 2015 کو پایہ تکمیل تک پہنچا۔ تیسرا شوکت خانم ہسپتال کراچی میں بننے جا رہا ہے اور پھر چوتھا ہسپتال جنوبی پنجاب میں تعمیر کرنے کا ارادہ ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *