سونے کی بڑھتی قیمت کو بریک لگ گئی تیسرے کاروباری روز فی تولہ قیمت میں نمایاں کمی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں29 ڈالر فی اونس کمی ، جبکہ پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 300 روپے کمی ہوئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس 24 قیراط سونے کی قیمت 29 ڈالر گھٹ کر

1884 ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی، جب کہ مقامی صرافی مارکیٹوں میں بھی بدھ کے روز فی تولہ اور فی دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 300 روپے اور 256 روپے کی کمی ہوگئی۔قیمتوں میں کمی کے بعد کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت گھٹ کر 1 لاکھ 13 ہزار روپے ہوگئی، جب کہ دس گرام 24 قیراط سونے کی قیمت کمی کے بعد 96 ہزار 880 روپے ہوگئی۔یاد رہے کہ رواں ہفتے کے پہلے کاروباری روز فی تولہ سونا 700روپے جبکہ دوسرے روز800روپے مہنگا ہوا تھا۔رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر مزید 7 پیسے سستا ہو گیا، امریکی کرنسی کی نئی قیمت 164 روپے 4 پیسے سے کم ہو کر 163 روپے 97 پیسے ہو گئی ہے۔یاد رہے کہ رواں ہفتے

کے پہلے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی قدر 19 پیسے سستا ہو گئی تھی جس کے بعد ڈالر کی نئی قیمت 164 روپے 51 پیسے سے کم ہو کر 164 روپے 32 پیسے ہو گئی تھی۔دوسرے کاروباری روز کے دوران امریکی ڈالر مزید 28 پیسے سستا ہو گیا تھی، قیمت 164 روپے 32 پیسے سے کم ہو کر 164 روپے 4 پیسے ہو گئی تھی۔ملک بھر میں گزشتہ ایک سال کے دوران ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں بہتری کے باعث روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے، ایک سال کے دوران ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں چار ارب ڈالرز سے زائد کا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ جس کے باعث گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ڈالر تنزلی کا شکار ہے۔دریں اثنا معروف معاشی تجزیہ کار سٹیفن رویچ نے سائوتھ چائنہ مارننگ پوسٹ میں اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں 4.3فیصد تک کمی رونما ہوئی ہے ۔

اس کمی سے قبل فروری سے اپریل کے دوران ڈالر کی قدر میں 7فیصد اضافہ ہوا تھا، جس کی وجہ کورونا وائرس کی وجہ سے لوگوں کا ڈالر ذخیرہ کرنا اور فلائٹ ٹو سیفٹی جیسے عوامل تھے جن سے ڈالر کو خاطرخواہ فائدہ پہنچا۔ لیکن ان فوائد کے باوجود آئندہ چار ماہ کے دوران ڈالر

کی قیمت میں کئی ممکنہ وجوہات کی سے کمی واقع ہو گی ۔ ان میں مقامی سطح پر سیونگز میں غیرمعمولی کمی آنا، خوفناک کرنٹ اکائونٹ خسارہ، امریکہ کے اندر میکرو اکنامک عدم توازن اور امریکی حکومت کی کچھ پالیسیاں ہیں۔سٹیفن رویچ نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان عوام کو مدنظر رکھا جائے تو 2021کے اختتام تک ڈالر کی قدر و قیمت میں 30سے 35فیصد تک کمی رونما ہونے کا قوی امکان ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *